اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان اگلے پانچ سالوں کے دوران سرکاری قرضوں کے سود کی مد میں 45 ہزار ارب روپے ادا کرے گا، جس سے ملکی مالیاتی منظرنامے پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، ملکی قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جو کہ حکومت کی ڈھائی سال کی کل ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی کے برابر ہے۔
رپورٹس کے مطابق، صرف مالی سال 27-2026 کے لیے سود کا بل 7 ہزار 824 ارب روپے رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جو ہر سال مسلسل بڑھتے ہوئے مالی سال 31-2030 تک 10 ہزار ارب روپے کی تاریخی سطح کو عبور کر جائے گا۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ملکی قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملک کو آنے والے سالوں میں سخت مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔



