سیوہن/ بھان سید آباد (ویب ڈیسک): ایشیا کی میٹھے پانی کی سب سے بڑی منچھر جھیل انتظامی غفلت کے باعث مکمل طور پر خشک ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے منچھر کا تقریباً 2 کلومیٹر تک کا علاقہ بنجر زمین کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ پانی کی سطح خطرناک حد تک گر کر 104 آر ایل تک پہنچنے سے مچھلیوں کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں مچھیرے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ جھیل خشک ہونے سے نہ صرف آبی حیات متاثر ہوئی ہے بلکہ قریبی زمینیں بھی بنجر ہو گئی ہیں، جس سے کسان اور آبادگار معاشی طور پر کنگال ہو چکے ہیں۔ آبی ماہرین نے اس صورتحال کو ایک بڑا ماحولیاتی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی فراہمی بحال نہ ہونے کی صورت میں منچھر کی ڈیڑھ لاکھ انسانی آبادی کا روزگار اور زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ دوسری جانب مقامی رہائشیوں نے حکام پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کو جان بوجھ کر بنجر بنایا جا رہا ہے اور جھیل کو سکھا کر یہاں کے لوگوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر منچھر کو پانی دے کر تباہی سے بچایا جائے۔



