کراچی (ویب ڈیسک): وفاقی بجٹ کی ناکامیوں اور صوبائی حصوں میں کٹوتی کے حوالے سے ایک سخت مالی تجزیہ سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی نااہلی کو ڈیفنس بجٹ اور قومی مفاد کے نعرے کے پیچھے چھپا رہی ہے۔ تجزیے کے مطابق دفاعی بجٹ میں 500 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے اس کا تخمینہ 2500 ارب سے بڑھ کر 3000 ارب روپے ہو گیا ہے۔ اگر صرف دفاعی بجٹ کا بوجھ صوبوں پر ہوتا تو سندھ پر 100 سے 150 ارب روپے کا اثر پڑتا، جو کہ کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا، لیکن وفاق نے اپنی ٹیکس وصولی کی ناکامی چھپانے کے لیے 1200 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ صوبوں پر ڈال دیا ہے۔ اب صوبوں کو 500 ارب کے بجائے 1800 ارب روپے واپس کرنے ہوں گے، جس میں اکیلے سندھ کا حصہ تقریباً 500 ارب روپے بنتا ہے۔ تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں جمع ہونے والے 1650 ارب روپے میں سے صوبوں کا جائز حصہ 948 ارب روپے بنتا تھا، جس میں سے سندھ کو 227 ارب روپے ملنے تھے، لیکن اس رقم پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ ان مالی ہیر پھیر کی وجہ سے این ایف سی ایوارڈ کی روح کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ صوبوں کا آئینی حصہ، جو ساڑھے 57 فیصد (57.5%) مقرر تھا، وہ عملی طور پر کم ہو کر 46 فیصد پر آگیا ہے، جبکہ وفاق کا حصہ بڑھا کر 54 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ سارا عمل این ایف سی فورم سے بالاتر اور مکمل طور پر آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔



