حیدرآباد (ویب ڈیسک) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے رہنما عديل صدیقی نے حیدرآباد اور کوٹری کے صنعتی علاقوں کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران امپورٹ پر 1.85 فیصد انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 1500 ارب روپے جمع کرنے کے باوجود سندھ حکومت انڈسٹریل زونز کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاق کی سطح پر مہنگی بجلی اور پیچیدہ ٹیکس نظام کے بعد اب صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے گاڑیوں کے نقصان اور مال کی ترسیل میں تاخیر کے باعث صنعتکاروں کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
عديل صدیقی نے مزید کہا کہ 74 سال پرانے حیدرآباد سائٹ ایریا کے 450 فعال یونٹس پانی کی قلت، نکاسی آب اور خراب سڑکوں کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ یہاں شروع کیے گئے 1.10 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ صنعتی علاقوں کا دورہ کریں اور وفاقی ایس آئی ایف سی (SIFC) کی طرز پر سندھ میں بھی ایک بااختیار صوبائی انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن باڈی قائم کریں، ورنہ سندھ میں صنعت کاری کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔



