کراچی (ویب ڈیسک): کراچی کے علاقے ملیر سعود آباد میں دن دیہاڑے چلتی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے نو بیاہتا جوڑے کو قتل کرنے کے کیس میں ملوث مرکزی ملزم کو سچل تھانے کی حدود سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم مقتولہ خاتون کا سگا بھائی ہے، جس نے دورانِ تفتیش اپنی بہن اور بہنوئی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، گزشتہ روز ملیر سعود آباد میں نادرا آفس کے قریب موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے چلتی کار پر اندھا دھند فائرنگ کرکے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو موقع پر ہی قتل کر دیا تھا، جن کی شناخت نجیح اللہ اور نادیہ کے ناموں سے ہوئی تھی۔ واقعے کا مقدمہ مقتول نجیح اللہ کے بھائی محمد عثمان کی مدعیت میں مقتول کے سسر محمد اسلم اور 4 نامعلوم مسلح ملزمان کے خلاف سعود آباد تھانے میں درج کرایا گیا تھا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے کے 15 گھنٹوں کے اندر سچل کے علاقے سے مرکزی ملزم ساجد کو گرفتار کر لیا، جو مقتولہ نادیہ کا سگا بھائی ہے۔ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے غیرت کے نام پر اپنی بہن اور بہنوئی کو قتل کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ملزم نے دورانِ جاچ بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بہن کی منگنی ساڑھے تین لاکھ روپے لے کر سعید گوپانگ نامی شخص سے کرائی گئی تھی اور عید کے بعد شادی طے تھی، لیکن بہن کی جانب سے پسند کی شادی کرنے کے بعد سعید گوپانگ پیسے واپس مانگ رہا تھا۔ ملزم کے مطابق، پیسے واپس نہ ملنے پر سعید گوپانگ کی طرف سے بہن کو قتل کرنے کی شرط رکھی گئی، جس کے دباؤ میں آکر اس نے یہ قدم اٹھایا۔ ملزم نے مزید بتایا کہ قتل کے وقت موٹر سائیکل چلانے والا دوسرا کوئی نہیں بلکہ سعید گوپانگ کا بھائی عابد گوپانگ تھا۔
یاد رہے کہ مقتول نوجوان نجیح اللہ اپنی اہلیہ کے ساتھ عدالت سے ہوکر حیدرآباد جا رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو میں بھی مسلح ملزمان کو کار پر فائرنگ کرتے اور کار ڈرائیور کو جان بچا کر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔


