Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

پاکستان کا بجٹ 2026-27 آج پیش کیا جائے گا

Share It:

اسلام آباد : پاکستان کا بجٹ 2026-27 آج پیش کیا جائے گا، جس میں کچھ ریلیف کی تجاویز شامل ہیں، وہیں بھاری ٹیکس اہداف بھی رکھے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومتِ پاکستان کی جانب سے نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

وزیرخزانہ محمداورنگزیب آج نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ اور اہم ترین مالیاتی دستاویزات ایوان میں پیش کریں گے۔

بجٹ میں جہاں عوام اور سرکاری ملازمین کے لیے کچھ ریلیف کی تجاویز شامل ہیں، وہیں بھاری ٹیکس اہداف اور قرضوں کی ادائیگیوں کا بڑا چیلنج بھی موجود ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کی تنخواہوں میں 10 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، اس کے ساتھ ہی تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

سالانہ 12 لاکھ سے 36 لاکھ روپے تک کمانے والوں کے ٹیکس میں کمی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس سلیبز کو 6 سے بڑھا کر 8 کیا جا رہا ہے، جبکہ سالانہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد آمدن پر عائد 10 فیصد سرچارج کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

بجٹ میں سپر ٹیکس میں بھی کمی کی تجویز ہے، تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

کیا سستا ہوگا اور کیا مہنگا؟

عوام کے لیے روزمرہ کے استعمال اور بناؤ سنگھار کی بعض اشیاء سستی ہونے کی توقع ہے، درآمدی میک اپ کا سامان، سرخی، پاؤڈر، مسکارا، شیمپو اور صابن پر کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کی جا رہی ہے جس سے یہ چیزیں سستی ہو جائیں گی۔

دوسری طرف، ماحول دوست گاڑیوں پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے، الیکٹریکل، ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہو سکتی ہیں۔

مقامی طور پر تیار ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ آٹو انڈسٹری کو وارننگ دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے مقامی سطح پر پرزہ جات تیار نہ کیے تو انہیں ملنے والی رعایتی ٹیکس کی سہولتیں ختم کر دی جائیں گی۔

حکومت نے نئے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے، جس کو پورا کرنے کے لیے 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جانے کا امکان ہے۔

بجٹ میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں سترہ سو ستائیس ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر ہوسکتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ لیوی ڈھائی روپے سے بڑھا کر پانچ روپے لیٹر کرنے جبکہ گیس سرچارج کی مد میں ایک سو اکاون ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر ہونے کا امکان ہے۔

بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کی نذر ہو جائے گا، آئندہ مالی سال میں وفاق کے لیے سود اور قرضوں کی ادائیگی کا مجموعی تخمینہ 7 ہزار 824 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں سے 6 ہزار 652 ارب روپے مقامی قرضوں اور 1 ہزار 107 ارب روپے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔

علاوہ ازیں، وفاقی وزارتوں اور محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 1,070 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں جبکہ پنشن کی مد میں 1,100 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی جائے گی۔

غریب اور مستحق طبقے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 838 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اس کے تحت مستحقین کا سہ ماہی وظیفہ 13,000 روپے سے بڑھا کر 14,500 روپے کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے بجٹ میں تجویز کردہ تمام مالیاتی اقدامات، ٹیکسوں میں ردوبدل اور نئی معاشی پالیسیوں کو قانونی شکل دینے کے لیے "فنانس بل 2026” قومی اسمبلی میں متعارف کرایا جائے گا۔ اس بل میں شامل تمام مالیاتی اور ٹیکس تجاویز کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ان کا باقاعدہ نفاذ یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول