گمبٹ (رپورٹر) خانواہن پولیس کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے بے گناہ نوجوان نسیم منگلو کے لواحقین نے انصاف کے لیے پریس کلب گمبٹ پہنچ کر سخت احتجاج کیا۔
احتجاج کرنے والے منگلو برادری کے رہنماؤں صدام علی، راہب علی، مسمات غلام صغریٰ اور دیگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خانواہن پولیس نے 11 دن قبل بے گناہ نوجوان نسیم منگلو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا، جس پر پہلے سے کوئی مجرمانہ کیس درج نہیں تھا۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی نوشہرو فیروز نے نوجوان کے قتل سے متعلق جو تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی، اس نے کوئی شفاف انکوائری نہیں کی، بلکہ اس کے برعکس پولیس کی جانب سے انہیں جھوٹے مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کی معصوم بیٹی نے صحافیوں کے سامنے روتے ہوئے کہا کہ، ہمارے ابو ہمارے لیے روزی کماتے تھے، ہمیں خرچ دیتے تھے، اب ہمارے لیے کون روزی کمائے گا اور کون خرچ دے گا؟
مظاہرین نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی نوابشاہ اور ایس ایس پی نوشہرو فیروز سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرا کے مقتول نسیم منگلو کا قتل کیس درج کیا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔



