واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی کے بعد حملہ روکنے اور معاہدہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اس ہفتے دستخط ہونے کی امید ہے۔ معاہدے کی دستاویزات آخری مراحل میں ہیں، دستخطوں کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے، جس میں جے ڈی وینس شرکت کریں گے۔ ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن معاہدے میں پاکستان بہترین کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عظیم شخصیات ہیں، معاہدے پر سب خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہرمز کی آبنائے کی سمندری ناکہ بندی ڈیل کو حتمی شکل دینے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی، ایران کے ساتھ مذاکرات کو ایرانی قیادت کی اعلیٰ ترین سطح تک لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور آخری نکات تمام فریقین کی جانب سے منظور کر لیے گئے ہیں، ان فریقین میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، قطر، ترکی اور دیگر شامل ہیں۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کے ساتھ مشاورت میں پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کے آخری نکات کی منظوری کے دعوے پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی اقدامات سفارتی عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔ قطر اور پاکستان ثالثی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب فورس نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے ٹرمپ کے دعووں کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی شروعات سے لے کر اب تک ٹرمپ نے کئی بار تضادات سے بھرپور اور غلط بیانات دیے ہیں۔



