اسلام آباد (ویب ڈیسک): آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (GST) کے نفاذ اور مختلف اشیاء کو تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کے بعد ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ فنانس بل کی دستاویزات کے مطابق ان اقدامات سے قومی خزانے کو 70 ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی، لیکن اس سے عوامی استعمال کی سینکڑوں اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ بجٹ کے تحت دودھ، ڈیری مصنوعات، کھانے کا تیل، گھی، مصالحے، بیکری کی اشیاء، کیچپ، جیلی، پلاسٹک اور سینیٹری کا سامان مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عام استعمال کی اشیاء جیسے شیمپو، بالوں کا تیل، پرفیوم، باڈی اسپرے، کراکری، سفری بیگ، کیمرے، زرعی ادویات اور ای سگریٹ بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب بجٹ میں امیر طبقہ بھی ٹیکس نیٹ میں آیا ہے، جہاں لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے، جس سے حکومت کو 25 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ جبکہ صنعتی اور تجارتی درآمد کنندگان کے منافع کا فرق ختم کر کے قومی خزانے میں 30 ارب روپے کے مزید ٹیکس جمع کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔



