جسمانی سرگرمیوں سے جسم اور دماغ دونوں کی صحت کو متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں، چاہے چند منٹ کے لیے ہی ورزش کیوں نہ کی جائے۔
درحقیقت محض 5 سے 10 منٹ کی جسمانی سرگرمیوں سے توانائی کی سطح اور مزاج بہتر ہوتا ہے۔
جرنل نیچر ہیومین بی ہیوئیر میں شائع تحقیق میں ہلکی شدت کی جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ روزمرہ کی سرگرمیاں جیسے گھریلو کام، سیڑھیاں چڑھنے یا مختصر چہل قدمی سے شخصیت پر فوری مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق میں جسمانی حرکت اور مزاج دونوں کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اور بتایا گیا کہ جسمانی طور پر متحرک رہنے سے مزاج خوشگوار ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ زیادہ سرگرم رہنے کی خواہش کرتے ہیں۔
اس تحقیق میں 8 ہزار افراد کو شامل کیا گیا اور پھر 3 لاکھ 20 ہزار افراد کے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کیا گیا۔
اس تحقیق میں جم میں کی جانے والی ورزشوں کی بجائے روزمرہ کی جسمانی سرگرمیوں سے مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں شامل افراد کو فٹنس ٹریکرز پہنائے گئے اور اس طرح محققین کے لیے ہلکی اور معتدل شدت کی جسمانی سرگرمیوں جیسے چہل قدمی، سیڑھیاں چڑھنے اور گھر کے کام کرنے سے مرتب حیاتیاتی اثرات کا جائزہ لینے میں مدد ملی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزمرہ کی ان سرگرمیوں سے جذباتی صحت پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہمیں ورزش کے فوائد کے حصول کے لیے بہت زیادہ سخت جسمانی سرگرمیوں کی ضرورت نہیں۔
ماہرین کے مطابق تحقیقی کام سے مسلسل ثابت ہو رہا ہے کہ ورزش خاص طور پر چار دیواری سے باہر جسمانی سرگرمیوں سے دماغی صحت کو نمایاں فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سر سبز مقامات پر وقت گزارنے سے جسم کے اندر تناؤ بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح گھٹ جاتی ہے، بلڈ پریشر کم ہوتا ہے جبکہ مزاج خوشگوار ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دماغی صحت بہتر ہونے کا انحصار بیماریوں سے محفوظ ہونا نہیں بلکہ جذباتی، نفسیاتی اور سماجی توازن تناؤ کو کنٹرول میں رکھنے اور اردگرد کی دنیا سے جڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔


