تازہ ترین
سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ، سعید غنی سمیت 11 افراد کے خلاف شکایت، عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی نوشہرو فیروز: مورو کے قریب زمین کے تنازع پر معصوم بچوں سمیت سوہو برادری کے افراد کا احتجاج وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے وفد کی ملاقات ضلع خیرپور میں چوری اور لوٹ مار کی وارداتیں، پولیس مقابلے میں 3 مبینہ چور زخمی حالت میں گرفتار خیرپور قومی شاہراہ پر کوچ اور ٹریلر میں تصادم، 5 افراد شدید زخمی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پھر بھڑک اٹھی، سرکریک میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد ہلاک اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلادھار بارش، پانی گھروں میں داخل، تعلیمی ادارے بند، فوج طلب شکارپور: جمالی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، فائرنگ سے ایک جاں بحق شکارپور: قتل کے شبہ میں باپ نے بیٹی اور نوجوان کو قتل کردیا، ملزم گرفتار ملیر: ڈکیتی مزاحمت پر 18 سالہ نوجوان قتل، 3 ڈاکو فرار کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ہوٹل مالک اور مزدور زخمی نواب شاہ: شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں 6 ماسٹرز اور 6 پی ایچ ڈی پروگرامز کی منظوری گمبٹ کے قریب ڈوبنے والے 4 بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں کراچی میں خاتون کا آپریشن، آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں! سہون: سالانہ میلے کے دوران ریلوے جھولے کی بوگی گر گئی، 4 افراد زخمی ٹنڈو الہ یار: بھنبھرو کوہ اسٹاپ کے قریب 2 سالہ بچی پانی کے نالے میں ڈوب کر جاں بحق میرپور ماتھیلو میں شوہر نے بیوی کو قتل کرکے خودکشی کرلی نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب سے 165 افراد ہلاک، 1500 سے زائد لاپتہ اوباڑو: کمزور دیوار گرنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، بہن زخمی اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق ملک بھر میں جشن عید میلاد النبی (ص) عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے وفاقی حکومت نے 9 فوجی افسران کو سول سروس میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گمبٹ: کوٹ ڈیجی قتل کیس میں پولیس چوکی انچارج برطرف ملیر: گڈاپ سے 28 سالہ نوجوان کی لاش برآمد جیکب آباد: کار سے نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد پولیس افسران کی تصاویر والے اشتہارات پر پابندی نواب شاہ کے قریب ڈمپر کی رکشہ کو ٹکر، باپ بیٹا جاں بحق، خاصخیلی برادری کا احتجاج نوشہرو فیروز بائی پاس پر خوفناک حادثہ، دو بھائی جاں بحق جیکب آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما دیدار جکھرانی کے بھائی محبوب جکھرانی کی گولیوں سے چھلنی لاش ان کے گھر سے ملی کراچی میں چاپ تعزی کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد، سیکیورٹی ہائی الرٹ

Sindh Nurses Leaving Countries – ایکسپریس اردو

Share It:

[ad_1]

سندھ میں سرکاری اسپتالوں میں قائم سرکاری و نجی نرسنگ کالجز و اسکول سے سرکاری ماہانہ اعزازیہ پر پانچ سالہ تعلیم و تربیت مکمل کرنے والی نرسز (میل اور فیمیل) کی اکثریت کو سرکاری ملازمت نہیں مل پاتی جس کی وجہ سے تربیت یافتہ نرسز ملازمت کے لیے بیرون ملک کا رخ کررہی ہیں۔

سندھ کے سرکاری و نجی نرسنگ کالجز و اسکول سے ہر سال تقریباً1500 نرسز 4 سالہ تعلیم اور ایک سالہ ہاوس جاب مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوتے ہیں جن میں سے 400 سے 500 نرسز کو سرکاری اسپتالوں میں ملازمت مل جاتی ہے۔

ایکسپریس ٹریبون کی تحقیق کے مطابق سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں قائم سرکاری و نجی نرسنگ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا پر ماہانہ اعزازیے کی مد میں حکومت سالانہ ساڑھے 16 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے اور پانچ سال کے دوران کے یہ اعزازیہ تقریباً 82 کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں نرسز کی صرف پانچ ہزار اسامیاں ہیں۔

ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق ہر سال فارغ التحصیل نرسوں میں سے اکثریت کو صوبہ سندھ کے صحت کے مراکز میں ملازمت نہیں مل پاتی جس کی وجہ سے ان کی اکثریت ملازمت اور پرکشش مراعات کے لیے غیر ممالک کا رخ کرتی ہے۔ اس طرح صوبہ سندھ اور پاکستان ان تعلیم یافتہ نرسز کی خدمات سے محروم ہوجاتا ہے جن پر سرکاری خزانے سے بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں بستروں کی تعداد کے اعتبار سے نرسوں کی اسامیاں میں اضافہ کرے تاکہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے۔

تحقیق کے مطابق صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے مقابلے میں نرسز کی تعداد خاصی کم ہے، سرکاری اسپتالوں کے جنرل وارڈ میں ایک نرس کو 12 سے 15 مریضوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے جبکہ آئی سی یو میں کام کرنے والے نرس کو چھ سے زائد مریضوں دیکھنا پڑتا ہے۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق اس وقت سرکاری اسپتالوں میں 15 ہزار نرسوں کی قلت ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں کوئی نرسنگ یونیورسٹی موجود نہیں   جبکہ حکومت سندھ نے صوبے میں نرسوں کی قلت کو دور کرنے کے لیے سرکاری نرسنگ اسکولوں میں پہلی بار ایوننگ نرسنگ کورس کا آغاز کیا ہے۔ اس وقت صوبے کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں 21 نرسنگ اسکول جبکہ 80 سے زائد پرائیویٹ نرسنگ اسکول قائم ہیں، ہر سال سرکاری نرسنگ اسکولوں میں 70 سے 80 طلباوطالبات کو داخلے دیے جاتے ہیں جبکہ ایک پرائیویٹ نرسنگ اسکول میں 50 داخلے ہوتے ہیں۔

سرکاری و نجی نرسنگ اسکولوں میں داخلے لینے والے طلباو طالبات کو محکمہ صحت حکومت سندھ کی جانب سے 30 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ اس وقت سرکاری نرسنگ اسکول سے سالانہ 1500 سے زائد نرسیں جبکہ 80 پرائیوٹ نرسنگ اسکولوں سے سالانہ 4000  نرسیں پاس آوٹ ہورہی ہیں۔ اس طرح صوبے میں سالانہ 5500 نرسزتیار کی جارہی ہیں جنہیں محکمہ صحت کی جانب سے 30 ہزار روپے فی نرس ماہانہ اعزازیہ دیا جارہا ہے۔

اس طرح محکمہ صحت ایک سال میں نرسوں کی تعلیم و تربیت پر 16 کروڑ روپے سالانہ خرچ کررہی ہے۔ اس طرح  چار سالہ نرسنگ ڈگری اور ایک سالہ ہاوس جاب کے دوران حکومت سندھ نرسوں پر 82 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے لیکن حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سرکاری سطح ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے یہ نرسیں بیرون ملک ملازمت کے لیے چلی جاتی ہیں جس سے حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ صحت کے پاس نرسوں کی اسامیوں کی تعداد صرف 5000ہے جبکہ سالانہ 5500 نرسیں تیار کی جارہی ہیں۔

ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین اعجاز کلہری نے بتایا کہ صوبے سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے مسلسل دباؤ کے پیش نظر مزید 15 ہزار نرسوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے اسپتالوں میں ڈاکڑوں اور نرسوں کا غیر مساوی نظام قائم ہے۔ نرسوں کو سرکاری ملازمت نہ ملنے کی وجہ ہماری نرسیں گلف اور یورپی ممالک جارہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سرکاری سطح کی تعلیم و تربیت دینے والی نرسوں کی ملازمتوں کو یقینی بنایا جائے۔

سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد نرسنگ کالج کے پرنسپل ارشاد عباسی نے بتایا کہ صوبے میں نرسوں کی قلت کے پیش نظر وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایت پر پہلی بار نرسوں کی ایوننگ کلاسس شروع کردی گئی ہیں جس کے بعد صوبے میں تربیت یافتہ نرسوں کی قلت ختم ہوجائیں گے۔

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول