اسلام آباد: ایم کیو ایم نے وفاقی بجٹ کے لیے ووٹ دینےکو سندھ کی گورنر شپ کی واپسی اور آرٹیکل 140 اے میں ترمیم سے مشروط کردیا۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 140 اے عوامی مفاد کی پہلی ترمیم ہے جس پر ہمیں جواب چاہیے، ہمارے گورنر کو کیوں نکالا ہمیں اس کا بھی جواب دیا جانا چاہیے۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو گورنر شپ واپس دی جائے، نواز شریف کو بھی ہٹایا تو انہوں نےکہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ ہمیں بھی جواب دیا جائے ہمارے گورنر کو کیوں نکالا؟ ایم کیو ایم کےگورنر نے آئی ٹی میں کام کیا، 50 ہزار بچوں کو اپنے قدموں پر کھڑا کیا، وہ نوجوان ڈیڑھ ہزار ڈالر ماہانہ کما رہے ہیں لیکن ہمارے گورنر کو ہٹایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں اسی شرط میں ووٹ دیاجائےگا کہ ہمیں گورنر سے متعلق مطمئن کیا جائے، اگر گورنر شپ نہیں دیتے تو پھر خالد مقبول صدیقی کو فیصلہ کرنا ہوگا۔
فاروق ستار سے سوال کیا گیا کہ ایم کیوایم میں دھڑے ہیں مصطفیٰ کمال یا خالد مقبول گروپ، دونوں میں سےکون ووٹ دےگا؟ کون سا نہیں؟ اس پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میں آپ کو ایم کیو ایم میں آنےکی دعوت دیتا ہوں۔
دوسری جانب گورنر سندھ نہال ہاشمی نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کو روایتی قرار دیا اور ایم کیو ایم کے مطالبے پر تبصرے سے انکار کردیا۔
اس سے قبل وزیرداخلہ محسن نقوی کی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے ساتھ حکومتی اتحادی ارکان اور گورنر سندھ سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں بجٹ، اتحادی جماعتوں کے مطالبات اور تحفظات پر بات چیت کی گئی۔


