تازہ ترین
کراچی: ٹریفک حادثات میں 3 موٹر سائیکل سوار جاں بحق، 4 زخمی ٹنڈوآدم: کوچ اور کار میں خوفناک تصادم، بچے اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق، 4 زخمی سندھ کے چار اضلاع میں دو روز کے دوران پسند کی شادی اور کاروکاری کے نام پر 8 افراد قتل میر رضا قتل: تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل کشمور: مال پوری میں مسلح افراد کی فائرنگ، ڈیرہ بگٹی کا رہائشی 56 سالہ نوجوان جاں بحق سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ، سعید غنی سمیت 11 افراد کے خلاف شکایت، عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی نوشہرو فیروز: مورو کے قریب زمین کے تنازع پر معصوم بچوں سمیت سوہو برادری کے افراد کا احتجاج وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے وفد کی ملاقات ضلع خیرپور میں چوری اور لوٹ مار کی وارداتیں، پولیس مقابلے میں 3 مبینہ چور زخمی حالت میں گرفتار خیرپور قومی شاہراہ پر کوچ اور ٹریلر میں تصادم، 5 افراد شدید زخمی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پھر بھڑک اٹھی، سرکریک میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد ہلاک اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلادھار بارش، پانی گھروں میں داخل، تعلیمی ادارے بند، فوج طلب شکارپور: جمالی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، فائرنگ سے ایک جاں بحق شکارپور: قتل کے شبہ میں باپ نے بیٹی اور نوجوان کو قتل کردیا، ملزم گرفتار ملیر: ڈکیتی مزاحمت پر 18 سالہ نوجوان قتل، 3 ڈاکو فرار کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ہوٹل مالک اور مزدور زخمی نواب شاہ: شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں 6 ماسٹرز اور 6 پی ایچ ڈی پروگرامز کی منظوری گمبٹ کے قریب ڈوبنے والے 4 بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں کراچی میں خاتون کا آپریشن، آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں! سہون: سالانہ میلے کے دوران ریلوے جھولے کی بوگی گر گئی، 4 افراد زخمی ٹنڈو الہ یار: بھنبھرو کوہ اسٹاپ کے قریب 2 سالہ بچی پانی کے نالے میں ڈوب کر جاں بحق میرپور ماتھیلو میں شوہر نے بیوی کو قتل کرکے خودکشی کرلی نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب سے 165 افراد ہلاک، 1500 سے زائد لاپتہ اوباڑو: کمزور دیوار گرنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، بہن زخمی اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق ملک بھر میں جشن عید میلاد النبی (ص) عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے وفاقی حکومت نے 9 فوجی افسران کو سول سروس میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گمبٹ: کوٹ ڈیجی قتل کیس میں پولیس چوکی انچارج برطرف ملیر: گڈاپ سے 28 سالہ نوجوان کی لاش برآمد جیکب آباد: کار سے نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد

تجارت بحران بدستور برقرار، صرف ٹیرف پالیسی کافی نہیں

Share It:

[ad_1]


کراچی:

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران 2 اہم پیش رفتوں نے تجارتی پالیسی سازوں کو درپیش مشکلات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اول بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ پہلے سے کمزور بیرونی کھاتوں پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات کی شرحِ نمو میں کمی ہے۔

مالی سال 2026 کے ابتدائی 4 ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4 فیصد کم رہیں، جبکہ درآمدات میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چونکہ معیشت کی بحالی کے حالیہ منصوبوں میں برآمدات کے فروغ پر خاص زور دیا جا رہا ہے، اس لیے برآمدات میں یہ کمی متعلقہ حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

تجارتی خسارے کے باعث جاری کھاتوں (کرنٹ اکاؤنٹ) کا خسارہ بھی بڑھ کر پہلے چار ماہ میں 733 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 206 ملین ڈالر تھا۔

دوسری اہم پیش رفت یہ ہے کہ حقیقی موثر شرح تبادلہ (REER) اکتوبر 2025 میں بڑھ کر 103.95 ہو گئی، جبکہ ستمبر میں یہ نظرثانی کے بعد 101.70 تھی۔ ادھر امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تقریباً 280 کے آس پاس مستحکم رہی۔

اس رجحان نے اس بحث کو پھر سے زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان دوبارہ بیرونی شعبے کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں۔موجودہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ 2022 میں عائد کی گئی درآمدی پابندیوں کا جائزہ لیا جائے، جب پاکستان ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کا شکار تھا۔

مالی سال 2022 میں پاکستان نے 80 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات کیں، جبکہ برآمدات محض 31 ارب ڈالر تھیں، جس سے 49 ارب ڈالر کا بھاری تجارتی خسارہ پیدا ہوا۔

اس بحران کی چند بنیادی وجوہات پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، درآمدات کی نوعیت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 2022 کے بعد کے دور میں ایندھن سے متعلق مصنوعات تجارتی خسارے کا بڑا سبب بنیں۔

پاکستان میں ایندھن کی درآمدات مجموعی درآمدات کا 25 فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ کئی مشرقی ایشیائی ممالک میں یہ شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔اس کے برعکس ان ممالک کی درآمدات زیادہ تر ٹیکنالوجی سے وابستہ مصنوعات پر مشتمل ہوتی ہیں جو پیداواری صلاحیت بڑھاتی ہیں اور انسانی وسائل کی ترقی میں مدد دیتی ہیں۔

جبکہ پاکستان کی درآمدی ٹوکری میں ایسے پیداواری اور تکنیکی مال کی کمی نظر آتی ہے۔دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ جون 2022 میں درآمدات کو کم کرنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔

اگرچہ سال کے اختتام تک ان میں سے کئی پابندیاں ختم کر دی گئیں لیکن ان کے منفی اثرات صنعت اور تجارت پر دیرپا رہے۔

معاشی مشاورتی گروپ (EAG) کی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے درآمدات کم کرنے کے لیے نہ صرف مختلف آلات استعمال کیے بلکہ دیگر ممالک کی نسبت زیادہ سخت اقدامات کیے، جن کا نتیجہ کمزور معاشی ترقی اور موجودہ اقتصادی مسائل کی صورت میں نکلا۔

کرنسی کی قدر کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے ڈالر کی خریداری پر پابندیاں قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہیں۔ چونکہ پاکستان کے پاس ماضی میں بھی زرِمبادلہ کے محدود ذخائر رہے ہیں، اس لیے ایسے اقدامات تجارت کو غیر مستحکم بنا دیتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے بین الاقوامی تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کرے۔ یہ اقدامات صرف قومی ٹیرف پالیسی 2025-2030 تک محدود نہ ہوں بلکہ غیر ٹیرف رکاوٹوں اور کاروباری اصلاحات کو بھی شامل کیا جائے۔

چونکہ پاکستان خطے اور دنیا میں تجارتی کھلے پن کے حوالے سے کم ترین سطح پر ہے، اس لیے نہ صرف پاکستانی صنعتکار عالمی منڈیوں تک رسائی سے محروم ہیں بلکہ صارفین کو بھی معیاری اور متنوع مصنوعات میسر نہیں آ رہیں۔

اس صورتحال کا براہ راست اثر قیمتوں اور معیار پر پڑتا ہے۔ صرف ٹیرف پالیسی کافی نہیں ،ضروری ہے کہ ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جو بین الاقوامی تجارت کو محدود کرنے کے بجائے اس کے فروغ کا باعث بنیں۔



[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول