کراچی (نامہ نگار) سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں گریڈ ایک سے 15 تک کی مبینہ غیر قانونی بھرتیوں، 500 سے زائد عارضی ملازمین کی تقرریوں، مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ انسداد بدعنوانی کی عدالت میں پہنچ گیا، جہاں صوبائی وزیر سعید غنی سمیت 11 افراد کے خلاف فوجداری شکایت درج کر لی گئی۔
اسپیشل جج اینٹی کرپشن کراچی محمد امین اللہ صدیقی کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کرتے ہوئے سماعت 4 نومبر تک ملتوی کردی۔
عدالت نے اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو انکوائری مکمل کرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
شکایت میں سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سیکریٹری صالح سعید جمانی، سیکریٹری محنت ساجد جمال ابڑو، ڈی جی لیبر شیلا کاشف، بشیر چاچڑ اور سندھ بینک شاہراہ فیصل برانچ کے منیجر بشیر احمد سمیت 11 افراد کے نام درج ہیں۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کی تعلیم، صحت، رہائش اور سماجی بہبود کے لیے مختص سرکاری فنڈز کے استعمال کا ذمہ دار ہے، تاہم بورڈ میں بھرتی کے قواعد اور میرٹ کی مبینہ خلاف ورزی کی گئی۔
شکایت میں گریڈ 1 سے 15 تک بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں، 500 سے زائد عارضی ملازمین کی تقرری، ملازمین کو مستقل کرنے اور مکان کی خریداری کے ایڈوانس کی فراہمی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ یہ بے ضابطگیاں بورڈ حکام، محکمہ محنت کے حکام اور سندھ بینک کے ایک اہلکار کے درمیان مبینہ ملی بھگت سے کی گئیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 2021 سے 2026 تک کی گئی بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے، مشکوک مالیاتی لین دین کی تحقیقات کی جائیں اور سرکاری فنڈز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
واضح رہے کہ شکایت میں لگائے گئے الزامات ابھی تک ثابت نہیں ہوسکے ہیں اور معاملے کا حتمی نتیجہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آئے گا۔


