تازہ ترین
وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے وفد کی ملاقات ضلع خیرپور میں چوری اور لوٹ مار کی وارداتیں، پولیس مقابلے میں 3 مبینہ چور زخمی حالت میں گرفتار خیرپور قومی شاہراہ پر کوچ اور ٹریلر میں تصادم، 5 افراد شدید زخمی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پھر بھڑک اٹھی، سرکریک میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد ہلاک اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلادھار بارش، پانی گھروں میں داخل، تعلیمی ادارے بند، فوج طلب شکارپور: جمالی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، فائرنگ سے ایک جاں بحق شکارپور: قتل کے شبہ میں باپ نے بیٹی اور نوجوان کو قتل کردیا، ملزم گرفتار ملیر: ڈکیتی مزاحمت پر 18 سالہ نوجوان قتل، 3 ڈاکو فرار کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ہوٹل مالک اور مزدور زخمی نواب شاہ: شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں 6 ماسٹرز اور 6 پی ایچ ڈی پروگرامز کی منظوری گمبٹ کے قریب ڈوبنے والے 4 بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں کراچی میں خاتون کا آپریشن، آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں! سہون: سالانہ میلے کے دوران ریلوے جھولے کی بوگی گر گئی، 4 افراد زخمی ٹنڈو الہ یار: بھنبھرو کوہ اسٹاپ کے قریب 2 سالہ بچی پانی کے نالے میں ڈوب کر جاں بحق میرپور ماتھیلو میں شوہر نے بیوی کو قتل کرکے خودکشی کرلی نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب سے 165 افراد ہلاک، 1500 سے زائد لاپتہ اوباڑو: کمزور دیوار گرنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، بہن زخمی اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق ملک بھر میں جشن عید میلاد النبی (ص) عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے وفاقی حکومت نے 9 فوجی افسران کو سول سروس میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گمبٹ: کوٹ ڈیجی قتل کیس میں پولیس چوکی انچارج برطرف ملیر: گڈاپ سے 28 سالہ نوجوان کی لاش برآمد جیکب آباد: کار سے نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد پولیس افسران کی تصاویر والے اشتہارات پر پابندی نواب شاہ کے قریب ڈمپر کی رکشہ کو ٹکر، باپ بیٹا جاں بحق، خاصخیلی برادری کا احتجاج نوشہرو فیروز بائی پاس پر خوفناک حادثہ، دو بھائی جاں بحق جیکب آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما دیدار جکھرانی کے بھائی محبوب جکھرانی کی گولیوں سے چھلنی لاش ان کے گھر سے ملی کراچی میں چاپ تعزی کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد، سیکیورٹی ہائی الرٹ سندھ میں ریبیز سے مزید 2 اموات، ہلاکتوں کی تعداد 25 ہوگئی امریکی طیارہ آبنائے ہرمز کے قریب ہنگامی سگنل بھیجنے کے بعد لاپتہ ہو گیا

بابر کو غصہ نہ دلائیں

Share It:

[ad_1]


کراچی:

دنیا میں ہر باپ ہی اپنی اولاد سے بے تحاشا محبت کرتا ہے، اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی بنے اور اس کیلیے سخت محنت بھی کرتا ہے، البتہ بڑی کامیابی صرف چند فیصد کے حصے میں ہی آتی ہے۔ 

بابر اعظم کے والد اعظم صدیقی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو انٹرنیشنل کرکٹر بنانے کیلیے جو تگ و دو کی اس میں کامیاب بھی رہے، کسی انسان کیلیے اس سے بڑی کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ اس کا بیٹا بڑی شخصیت بن جائے اور دنیا بھر میں نام کمائے۔ 

زیادہ تر کرکٹرز کو دیکھیں تو ان کے والدین پڑھائی پر توجہ دینے کی تلقین کرتے رہے، البتہ بڑے بھائیوں نے کھیلنے میں مدد دی، یہاں معاملہ الٹ رہا،بابر کے والد نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، میں نے ایسے کرکٹرز بھی دیکھے جو ساتھی کے ہوٹل روم میں آ کر کہتے تھے کہ ’’یار میرا باپ مجھے بہت تنگ کر رہا ہے، اسپیس ہی نہیں دیتا، تیرے پاس فون آئے تو بولنا یہاں نہیں ہوں‘‘ پھر یہی ہوا جب فون آیا تو جھوٹ کہا گیا۔

دوسری جانب بابر جیسے تابعدار بیٹے ہیں جو اب بھی والد سے پوچھے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھاتے، جو کسی کا عروج دیکھے تو زوال آنے پر سب سے زیادہ دکھ اسی کو ہوتا ہے۔ 

بدقسمتی سے بابر اعظم کی کارکردگی اب ماضی جیسی نہیں رہی جس کی وجہ سے وہ قومی ٹیم سے باہر ہوچکے،کپتانی پہلے ہی چھن چکی تھی، پی ایس ایل کا سیزن بھی مایوس کن گذرا، کنگ کا لقب پانے والے بابر کو ایسا دن دیکھنا پڑے گا شاید ہی کسی نے یہ سوچا ہوا۔ 

ظاہر سی بات ہے والد کو اس کا سب سے زیادہ دکھ ہو رہا ہو گا، ابھی انھیں اپنے بیٹے کو سنبھالنا اور سمجھانا چاہیے کہ ہمت نہ ہارو،محنت جاری رکھو، یہ وقت بھی گذر جائے گا، البتہ اعظم صاحب لگتا ہے خود ہی ہمت ہارنے لگے ہیں،کم از کم ان کے سوشل میڈیا پیغامات تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ 

کامران اکمل نے یہ بات کہی کہ ’’بابر اعظم اور محمد رضوان کو وائٹ بال کی جگہ صرف ٹیسٹ میں حصہ لینا چاہیے‘‘ وہ پاکستان کی جانب سے 250 سے زائد انٹرنیشنل میچز کھیل چکے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں، کئی دیگر سابق کرکٹرز نے بھی بابر اور رضوان کے بارے میں ایسی باتیں کی ہیں۔

آپ جانتے ہوں گے بابر کے والد اکمل برادرز کے چچا ہیں لہذا انھیں بھتیجے کا مشورہ پسند نہ آیا اور لمبی چوڑی پوسٹ کر دی، میڈیا میں چچا بھتیجے کی لفظی جنگ کا خاصا چرچا رہا، اس منفی پبلسٹی کا کوئی فائدہ نہ ہوا البتہ فرسٹریشن ظاہر ہو گئی۔ 

بدقسمتی سے ہم کسی کو بہت جلد اوپر پہنچاتے ہیں اور زمین پر واپس لانے میں تو بالکل بھی تاخیر نہیں برتتے، بابر نے اپنی بہترین کارکردگی سے دنیا بھر میں نام کمایا، ہرکھلاڑی کے کیریئر میں بْرا وقت آتا ہے لیکن ان کے والد یا بھائی ناقدین سے لڑنے نہیں لگ جاتے، بابر کو کسی کی ٹویٹ، خبر یا سپورٹ ٹیم میں واپس نہیں لا سکتی، اس کے لیے ان کا بیٹ ہی کافی ہے لیکن متنازع بننے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا، ان کی وجہ سے والد بھی ’’منی سیلیبریٹی‘‘ بن چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز ہیں، وہ کوئی سخت بات کریں تو میڈیا خبر بنا کر چلا دیتا ہے، اس شہرت کا فائدہ نہیں نقصان ہی ہوگا، لائم لائٹ میں بابر کو ہی رہنے دیں، بطور والد ان کی پریشانی سب سمجھتے ہیں لیکن وہ خود کچھ نہیں کر سکتے، بابر کو ہی ماضی جیسی پرفارمنس سے دوبارہ اوپر آنا ہے۔ 

دراصل سوشل میڈیا نے بھی کھلاڑیوں کے مسائل بڑھائے ہیں، بابر کے نام پر بعض لوگوں نے اتنا کمایا کہ آج بیرون ملک جائیدادوں کے مالک ہیں، یوٹیوب چینلز سے بھی رقوم کمائیں، ایک ’’کرکٹر‘‘ سابق بورڈ چیف تو ان کے پیچھے چھپ کر اپنی خامیاں چھپاتے رہے۔ 

ان سب نے اپنی دکان چمکانے کیلیے بابر کو کرکٹ سے بڑھ کر شخصیت جیسا روپ دیا، کنگ بنا کر پیش کیا، جب تک بیٹ نے ساتھ دیا سب ٹھیک رہا اب کل کے بچے ٹی وی پر کہتے ہیں کہ ’’بابر کی کمی کوئی بھی پوری کر سکتا ہے‘‘۔

وہ بعض لوگوں کی باتوں میں آکر ان تک ہی محدود رہے، حلقہ احباب بڑھانے کی ضرورت نہ سمجھی، بابر تو برانڈ تھے ان کو کیش کر کے وہ لوگ مڈل کلاس سے اپر کلاس بن گئے، بابر اب تنہا ہیں، صرف ان کے والد ہی ساتھ نظر آتے ہیں، بابر نے بیٹ تو بدل لیا اب اردگرد موجود لوگوں کو بھی بدل کر دیکھیں یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔ 

چمچہ گیری کر کے آسمان پر چڑھانے والے لوگوں سے اب دور ہوں،والد صاحب یقینی طور پر مخلص ہیں ان کی مشاورت سے آگے بڑھیں لیکن ساتھ انھیں بھی کہہ دیں کہ سوشل میڈیا سے ناطہ توڑ لیں۔

بابر کی حال ہی میں ایک ویڈیو آئی جس میں وہ پرستاروں سے الجھ رہے ہیں ایسے معاملات سے بھی بچنے کی کوشش کریں،لوگ تنگ کرتے ہیں ایسے میں نظرانداز کرنا ہی بہتر حل ہے،مداح بھی انھیں غصہ نہ دلائیں اور کھیل پر فوکس کرنے دیں، بابر سوشل میڈیا واریئرز سے دور رہیں جو اب انھیں محمد حارث اور سلمان علی آغا جیسے کرکٹرز سے بھی لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، فلاں نے ان فالو کر دیا فلاں نے نام نہ لیا، ان باتوں میں پڑ کر کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف کارکردگی سے ہی ایسا جواب آ سکتا ہے جو سب دیکھیں گے۔ 

بدقسمتی سے پی ایس ایل میں بابر کو یہ موقع ملا تھا جس سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے، پاکستان کو موجودہ دور میں جو کرکٹرز ملے بلاشبہ بابر اعظم ان میں بہترین ہیں، انھوں نے ملک کیلیے بڑے کارنامے سرانجام دیے اور وہ بدستور ایسا کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے کھیل پر فوکس رکھیں باقی غیرضروری باتوں کو چھوڑ دیں۔ 

انھیں انا کو بھی پس پشت رکھنا ہوگا، سابق کرکٹرز سے بھی بات کریں تاکہ فارم واپس لانے میں مدد مل سکے،انگلینڈ ہی چلے جاتے جہاں سیزن جاری ہے،اعظم صدیقی صاحب کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی فلم نہیں جہاں شاہ رخ خان کی طرح ڈائیلاگ بول دیا کہ ’’ بیٹے کو ہاتھ لگانے سے پہلے باپ سے بات کر‘‘ اصل زندگی میں جب بیٹا مشکل میں پڑا تھا تو بیچارے شاہ رخ بھی خوب پریشان ہو گئے تھے، وہ یہ یاد رکھیں کہ اسٹار بابر ہے وہ نہیں۔ 

لوگوں سے سوشل میڈیا پر بحث نہ کریں، بابر کو مشورے دیں، اب سائیکل نہیں تو مرسیڈیز میں ہی بٹھا کر گراؤنڈ لے جایا کریں جہاں وہ پریکٹس کر کے پہلے والی فارم میں واپس آ سکیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)



[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول