تازہ ترین
کشمور: مال پوری میں مسلح افراد کی فائرنگ، ڈیرہ بگٹی کا رہائشی 56 سالہ نوجوان جاں بحق سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ، سعید غنی سمیت 11 افراد کے خلاف شکایت، عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی نوشہرو فیروز: مورو کے قریب زمین کے تنازع پر معصوم بچوں سمیت سوہو برادری کے افراد کا احتجاج وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے وفد کی ملاقات ضلع خیرپور میں چوری اور لوٹ مار کی وارداتیں، پولیس مقابلے میں 3 مبینہ چور زخمی حالت میں گرفتار خیرپور قومی شاہراہ پر کوچ اور ٹریلر میں تصادم، 5 افراد شدید زخمی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پھر بھڑک اٹھی، سرکریک میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد ہلاک اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلادھار بارش، پانی گھروں میں داخل، تعلیمی ادارے بند، فوج طلب شکارپور: جمالی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، فائرنگ سے ایک جاں بحق شکارپور: قتل کے شبہ میں باپ نے بیٹی اور نوجوان کو قتل کردیا، ملزم گرفتار ملیر: ڈکیتی مزاحمت پر 18 سالہ نوجوان قتل، 3 ڈاکو فرار کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ہوٹل مالک اور مزدور زخمی نواب شاہ: شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں 6 ماسٹرز اور 6 پی ایچ ڈی پروگرامز کی منظوری گمبٹ کے قریب ڈوبنے والے 4 بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں کراچی میں خاتون کا آپریشن، آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں! سہون: سالانہ میلے کے دوران ریلوے جھولے کی بوگی گر گئی، 4 افراد زخمی ٹنڈو الہ یار: بھنبھرو کوہ اسٹاپ کے قریب 2 سالہ بچی پانی کے نالے میں ڈوب کر جاں بحق میرپور ماتھیلو میں شوہر نے بیوی کو قتل کرکے خودکشی کرلی نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب سے 165 افراد ہلاک، 1500 سے زائد لاپتہ اوباڑو: کمزور دیوار گرنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، بہن زخمی اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق ملک بھر میں جشن عید میلاد النبی (ص) عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے وفاقی حکومت نے 9 فوجی افسران کو سول سروس میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گمبٹ: کوٹ ڈیجی قتل کیس میں پولیس چوکی انچارج برطرف ملیر: گڈاپ سے 28 سالہ نوجوان کی لاش برآمد جیکب آباد: کار سے نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد پولیس افسران کی تصاویر والے اشتہارات پر پابندی نواب شاہ کے قریب ڈمپر کی رکشہ کو ٹکر، باپ بیٹا جاں بحق، خاصخیلی برادری کا احتجاج نوشہرو فیروز بائی پاس پر خوفناک حادثہ، دو بھائی جاں بحق جیکب آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما دیدار جکھرانی کے بھائی محبوب جکھرانی کی گولیوں سے چھلنی لاش ان کے گھر سے ملی

راوی کنارے ڈوبتے گاؤں کی کہانی؛ پتھروں کے پشتے سیلاب کے آگے ڈھال بن گئے

Share It:

[ad_1]

دریائے راوی کے کنارے بسے دیہات ہر برس دریا کے کٹاؤ اور سیلاب کے خوف میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہ وہ بستیاں ہیں جنہیں اپنے مکان، زمین اور پیڑ پودے دن بہ دن پانی کے حوالے ہوتے دیکھنا پڑتا ہے۔

بوکن والا انہی دیہات میں سے ایک ہے، جہاں مٹی کا سکون کبھی دریا کے شور میں دب جاتا ہے اور کبھی بارشوں کی بے رحم روانی اسے نگل جاتی ہے۔ آج گاؤں کے بچے اسکول جانے کے لیے کیچڑ میں راستہ ڈھونڈتے ہیں، بزرگوں کی یادوں میں وہ پرانا گاؤں محفوظ ہے جو دریا کی تہہ میں جا چکا ہے، اور کسان اپنی زمین کو ریت کے ڈھیر میں بدلتا دیکھ کر بے بسی سے آسمان کو تکتا ہے۔

بوکن وال گاؤں لاہور رنگ روڈ سے تقریباً سات کلو میٹر دور دریا کے کنارے آباد ہے۔ کبھی یہ گاؤں موجودہ مقام سے آگے تھا مگر 2023 کے سیلاب اور بھارت کی جانب سے اچانک چھوڑے گئے پانی نے اسے نگل لیا۔

گاؤں کے نمبردار حاجی حامد رضا بتاتے ہیں کہ اُس وقت آدھے سے زیادہ گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا تھا۔ اب بھی یہاں کھڑے رہنے والے تقریباً سو گھروں اور پانچ سو نفوس کو ہر لمحہ یہ خوف ہے کہ دریا کا اگلا موڑ ان کی زمین کو بھی بہا لے جائے گا۔ گاؤں سے شہر تک رسائی مشکل ہے، بارش کے دنوں میں کچا راستہ دلدل بن جاتا ہے اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں لوگ ٹریکٹر ٹرالی پر سوار ہو کر ہی رنگ روڈ تک پہنچ پاتے ہیں۔

مقامی بزرگ احسان الٰہی کہتے ہیں کہ ان کی پیدائش اسی گاؤں میں ہوئی جو اب دریا کے اندر جا چکا ہے۔ موجودہ گاؤں بھی دریا سے چند میٹر کے فاصلے پر ہے اور ہر سال پانی تھوڑا اور قریب آجاتا ہے۔ گاؤں سے متصل محکمہ جنگلات کی زمین پر لگے 11مربع رقبے کے درخت بھی کٹاؤ کا شکار ہیں مگر ادارہ خاموش تماشائی ہے۔

اہل گاؤں برسوں سے پشتے بنانے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن ان کی آواز کہیں نہیں سنی گئی۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ اپنی مدد آپ کے تحت مٹی کے پشتے ڈالتے تھے جو پہلا ریلہ آتے ہی بہہ جاتے، اب صورتحال کچھ مختلف ہے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) نے حالیہ ہفتوں میں پتھروں کے مضبوط پشتے تعمیر کیے ہیں۔ احسان الٰہی کے مطابق ’’اللہ کا شکر ہے، اب شاید ہمارا گاؤں بچ جائے۔‘‘

روڈا کے ڈائریکٹر پراجیکٹ راؤ انتظار علی کا کہنا ہے کہ چونکہ بوکن والا ان کے منصوبے کے دائرے میں آتا ہے، اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ دیہات کو دریا اور سیلاب سے محفوظ رکھا جائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس بار مون سون سے قبل ہی تین بڑے پشتے تعمیر کر دیے گئے تاکہ گاؤں کے شمالی حصے کو بچایا جا سکے۔

نیسپاک کے انجینیئر بہزاد عثمان کے مطابق ان پشتوں کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ پانی کا دباؤ تقسیم ہو جائے اور اس کی رفتار ٹوٹ کر کمزور ہو جائے، چند روز پہلے 50 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ انہی پشتوں کے باعث بغیر نقصان کے گزر گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پشتے بنانے سے زیادہ مشکل کام یہاں تک پتھروں کو لانا تھا، کیونکہ گاؤں تک آنے والا راستہ کچا اور خراب ہے۔

ماہرین کے مطابق دریائے راوی کی چینلائزیشن کے بعد اس کی گنجائش پانچ لاکھ کیوسک تک بڑھ جائے گی، جس کے بعد بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے کے باوجود سیلاب کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ فی الحال دریا میں 18 سے 20 ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے مگر اہل گاؤں کو یقین ہے کہ اب نئے پشتے انہیں آنے والے طوفان سے بچالیں گے۔

بوکن وال کی کہانی دریا کنارے بسے ہر اُس گاؤں کی کہانی ہے جو اپنی بقا کے لیے پانی سے لڑ رہا ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ دریا کا کٹاؤ رکنے والا نہیں، لیکن انہیں امید ہے کہ مضبوط پشتے شاید آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ زمین دے جائیں۔

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول