کراچی (نامہ نگار) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں پولیو، ٹی بی، ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سمیت متعدی اور قابل علاج بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان بیماریوں کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے تمام سرکاری محکموں اور این جی اوز کے شفاف فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ایم اے نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی امداد، ڈونر فنڈنگ اور قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پاکستان صحت کے عالمی اہداف کے حصول میں بہت پیچھے ہے۔ تنظیم نے گلوبل فنڈ کے تعاون سے ایچ آئی وی پروگرام چلانے والے ٹرسٹوں کے خصوصی آڈٹ کے لیے اقتصادی امور ڈویژن کے حالیہ حکم کو سراہا ہے۔
پی ایم اے کے رہنما ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ بیماریوں کے خاتمے کے نام پر ہر سال خطیر رقم جاری ہونے کے باوجود صحت کا انفراسٹرکچر تباہی کا شکار ہے، طبی عملہ دباؤ کا شکار ہے اور بیماریوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی نااہلی، شفافیت کے فقدان اور بدانتظامی کے باعث یہ پروگرام موثر ثابت نہیں ہو رہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر پولیو، ٹی بی، ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے تمام سرکاری پروگراموں اور این جی اوز کا فوری طور پر غیر جانبدار اور قابل اعتماد مالیاتی اداروں کی نگرانی میں آزاد فرانزک اور مالیاتی آڈٹ کرایا جائے۔



