موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق یورپی یونین کی کوپرنیکس ایجنسی کے مطابق 2026 دنیا کی تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال ہونے کا امکان ہے جب کہ شدید ایل نینو موسمی صورتحال کے باعث عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔
کوپرنیکس کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق، 20 فیصد امکان ہے کہ 2026 2024 کے گرم ترین سال کے ریکارڈ کے برابر یا توڑ دے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 میں عالمی درجہ حرارت صنعت سے پہلے کی سطح سے 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ ہونا تقریباً یقینی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2026 تک چار سالوں کے لیے اوسط درجہ حرارت بھی 1.5 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرنے کا امکان ہے جو کہ پیرس موسمیاتی معاہدے میں مقرر کردہ حد ہے۔ اکتوبر 2026 ریکارڈ کے لحاظ سے گرم ترین اکتوبر تھا، جس کے دوران عالمی ہوا کا اوسط درجہ حرارت صنعت سے پہلے کی سطح سے 1.75 ڈگری سیلسیس زیادہ تھا۔
کوپرنیکس کی رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ حرارت مسلسل تیسرے مہینے 1.5 ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔ ایجنسی کی ماہر موسمیات سمانتھا برجیس کا کہنا ہے کہ شدید ال نینو انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پہلے سے گرم ہو رہے سیارے میں اضافہ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کی شدت ابھی اپنے عروج پر نہیں پہنچی اور امکان ہے کہ اس سال کے آخر میں اپنے عروج پر پہنچ جائے گا۔ موسمیاتی پیشن گوئی کے مطابق، 2027 ایل نینو کی وجہ سے ریکارڈ پر گرم ترین سال بھی ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے کے تحت ممالک نے گلوبل وارمنگ کو صنعتی سے پہلے کی سطح تک محدود کرنے کا عہد کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے گلوبل وارمنگ کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اسے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ہدف آئندہ چند سالوں میں حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوسل فیول سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی ضروری ہے۔



