کراچی (نامہ نگار) کراچی میں اپنی دو کمسن بیٹیوں سمیت تین روز سے لاپتہ ہونے والی 30 سالہ خاتون حسینہ کی لاش دنبہ گاؤں کے قریب پانی کے مین سے برآمد ہوئی ہے جبکہ اس کی دو بیٹیاں جن کی عمریں 4 اور 1.5 سال ہیں تاحال لاپتہ ہیں۔
ملیر کینٹ تھانے کے ایس ایچ او آغا عبدالرشید کے مطابق خاتون کی لاش کینجھر جھیل سے پانی لانے والی مین واٹر لائن میں تیرتی ہوئی ملی جو پھندے میں پھنس گئی۔ ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا گیا کہ خاتون کہیں اور ڈوب گئی ہے اور پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے لاش یہاں تک پہنچی۔ لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق خاتون کے شوہر قادر بخش نے 3 روز قبل میمن ولیج تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ ان کے بیان کے مطابق اس کا اپنی بیوی سے گھریلو بات پر جھگڑا ہوا جس دوران اس نے بیوی کو تھپڑ مار دیا جس کے بعد خاتون دونوں بیٹیوں سمیت گھر سے چلی گئی۔ پولیس نے لائف گارڈز کے ذریعے پانی کی لائن کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر لڑکیوں کی تلاش کی لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پولیس واقعے کے حقائق جاننے کے لیے سپر ہائی وے کے قریب واقع ایک فارم ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خاتون کے والد کی شکایت پر شوہر قادر بخش کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کر لی گئی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔


