پی پی ایچ آئی سندھ میں اہم عہدوں پر مبینہ غیر قانونی اور غیر شفاف تقرریوں کا معاملہ انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے دائرہ کار میں آگیا ہے۔ اینٹی کرپشن سندھ نے پی پی ایچ آئی سندھ کو باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے جس میں شکایت میں لگائے گئے الزامات سے متعلق جوابات، وضاحتیں اور متعلقہ ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ پی پی ایچ آئی سندھ میں اہم عہدوں پر تقرریوں کے دوران تجویز کردہ بھرتی اور انتخاب کے طریقہ کار بشمول کھلے اشتہار، مقابلہ، شارٹ لسٹنگ، ٹیسٹ اور انٹرویو پر مبینہ طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ شکایت میں سی ای او جاوید علی جاگیرانی اور چیف آپریٹنگ آفیسر ریاض حسین راہوجو کے مبینہ کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ڈائریکٹر شاہد علی شاہ اور پرنسپل آفیسر ایمن لطیف بھٹی کی تقرریوں پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا ان عہدوں کے لیے باقاعدہ اشتہار جاری کیا گیا، اہل امیدواروں کو مقابلے کا موقع دیا گیا اور انتخاب کا عمل مکمل ہوا یا نہیں۔
اینٹی کرپشن کمیشن نے تقرریوں کی اجازت، منظوری، بھرتی کا عمل، سلیکشن ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات مانگ لی ہیں۔ اس معاملے میں مزید کارروائی کا فیصلہ پی پی ایچ آئی سندھ کے جواب اور جمع کرائے گئے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔


