منیلا: میئر سکھر اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ہیڈکوارٹر منیلا میں منعقدہ کلائمیٹ ایڈاپٹیشن انویسٹمنٹ پلاننگ فورم (CAIP) میں شرکت کی، جہاں انہوں نے سندھ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، شہری ترقی اور بلدیاتی سہولیات کی بہتری کے لیے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر روشنی ڈالی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کو درپیش سنگین چیلنجز میں شامل ہے، جبکہ شدید گرمی، سیلاب اور پانی کی قلت نے عوامی زندگی اور بنیادی شہری سہولیات کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے سندھ سیکنڈری سٹیز امپروومنٹ اینڈ انویسٹمنٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سندھ کے پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز سکھر، حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ کے مطابق پروگرام کے تحت صاف پانی، سیوریج، گندے پانی کے بہتر انتظام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، جدید لینڈ فل سائٹس، شجرکاری، شہری جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر پر کام کیا جائے گا۔ پانچوں شہروں کے ماسٹر پلانز اور مختلف شعبوں کے تفصیلی ترقیاتی منصوبے بھی تیار کیے جائیں گے۔
میئر سکھر نے کہا کہ منصوبے کا مقصد صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر نہیں بلکہ شہروں کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور نوجوانوں، خواتین اور کمزور طبقات کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے بھی شامل ہوں گے، تاکہ شہری خدمات بہتر ہوں اور بلدیاتی اداروں کے لیے پائیدار آمدنی کے ذرائع پیدا کیے جا سکیں۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے حکومت سندھ اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سکھر کے لیے 20 لاکھ ڈالر کی گرانٹ
میئر سکھر نے بتایا کہ اربن ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ کے تحت سکھر کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ رقم قرض نہیں بلکہ مکمل گرانٹ ہے، جس کی واپسی یا سروس چارجز ادا نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر 2026 میں بین الاقوامی کنسلٹنٹس سکھر میں کام شروع کریں گے، جن کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور شہری بنیادی سہولیات سے متعلق سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبے تشکیل دیے جائیں گے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ اس اقدام کا خصوصی مقصد کم آمدنی والے خاندانوں، کچی آبادیوں اور دیگر کمزور طبقات کو شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
CAIP فورم کے موقع پر انہوں نے نیپال کے وزیراعلیٰ مدھیش صوبہ کرشنا پرساد یادو سے بھی ملاقات کی اور حالیہ سیلاب میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سندھ بھی موسمیاتی آفات کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے عالمی تعاون، مضبوط منصوبہ بندی اور تجربات کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کا عزم ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرکے شہریوں کی زندگیوں میں دیرپا بہتری لائی جائے۔


